Tuesday, December 16, 2014

دہشتگردی کا عفریت میرے بچے کھا رہا ہے

دہشتگردی کا عفریت میرے بچے کھا رہا ہے
دہشتگردی کے عفریت نے اب ہمارے بچے کھانا شروع کر دیئے ہیں۔ مذہب کے تقدس  کو دہشتگردی، عدم رواداری اور عدم برداشت کی بھینٹ چڑھا کر اس کو دنیا کے سامنے ایک نفرت انگیز شئے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اب یہ لازم ہوچکا ہے کہ ہر شخص خواہ وہ کسی بھی مذہب، مسلک، عقیدے، رنگ، نسل سے تعلق رکھتا ہو روئے زمین پر انسانی خون کے پیاسے اس بدترین عفریت کےخلاف اٹھ کھڑا ہو۔ آج وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں اپنےنہیں بلکہ اپنے بچوں کے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں بڑے ہونے دینا ہےیانہیں؟
بدترین صورتحال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے وہ طبقے جو ہمیں اس عفریت سے بچا سکتے تھے وہ بھی اس کے ہی ہمنوا ہوچکے ہیں۔ دہشتگردوں کے نمایئندوں اور انکے سرغنوں کو ہمارے صحافی ذرائع ابلاغ پر انکا مؤقف پیش کرنے کیلئے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں اور ان کے اعمال خبیثہ کوان پروگراموں میں جواز فراہم کیا جاتا ہے۔  مذہب کے نام پر فساد برپا کرنے والی جماعتیں اور ان کے نام نہاد رہنما جو درحقیقت رہزن ہوتے ہیں دہشتگردی کے خلاف اپنی جانیں قربان کرنے والے شہیدوں کوہلاک قرار دیتے ہیں اور جہنم رسید ہو جانے والے دہشتگردوں کو شہید کا رتبہ دیتے ہیں۔ ہماری عدالتیں کسی دہشتگرد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کرتی ہیں۔ ہمار ےقانون ساز ادارے ایسا کوئی بھی قانون پاس نہیں کرتے کہ جس سے دہشتگردوں کی کمر توڑی جا سکے۔
اب جب کہ ہمارے معصوم بچے بھی دہشتگردوں کا ہدف بننے لگے ہیں اور یہ بھیانک عفریت ہماری ماؤں کی گودیں اجاڑنے پر آمادہ ہے تو ہمیں فیصلہ کرنا ہوگاکیونکہ اب ہمارے پاس وقت نہیں رہ گیا۔ اب یا کبھی نہیں!
دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے چند تجاویز
دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر کی جیلوں میں موجود تمام طالبان دہشتگردوں کو ایک ہفتے کے اندرپھانسی  دے دی جائے۔ اس کیلئے کسی بین الاقوامی دباؤ کی پرواہ نہ کی جائے۔
ماضی میں جو جماعتیں دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور جو رہنما جہنم رسید کو شہید اور شہید کو ہلاک کہتے رہے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے، انہیں گرفتار کرکے ان پر مقدمے چلائے جایئں اور جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی سے کم سزا نہ دی جائے
دہشتگردوں کو ان کا مؤقف پیش کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارم دینے والے صحافیوں اور چینلز پر پابندی لگائی جائے
آپریشن ضرب عضب کا دائرہ فوری طور پر شہروں تک بڑھایا جائے۔ ملک بھر کے عوام اس کا خیر مقدم کریں گے اور افواج پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے شہریوں کی تنظیمیں بنائی جایئں جو اپنے محلوں اور گلیوں میں اجنبی اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور  اپنے علاقوں کی حفاظت کیلئے حکمت عملی وضع کریں۔

No comments:

Post a Comment