Friday, December 19, 2014

Lal Masjid Protest And Civl Society Islamabad

سانحہ پشاور کے زخم ابھی تازہ ہیں اور جس طرح سانحہ مشرقی پاکستان، سانحہ قصبہ علیگڑھ اور سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کے زخم برسوں گذر جانے کے باوجود رستے رہتے ہیں یہ زخم بھی ہمیشہ رستے ہی رہیں گے۔ اپنے والدین کے دلوں کا قرار اور ہمارے مستقبل کی آس ان پیارے پیارے معصوم بچوں نے اپنی جانیں تو دے دیں لیکن شائد ہمیں بحیثیت قوم ایک طویل زندگی دے گئے ہیں۔ ان کی قربانی نے دہشتگردی کے ہاتھوں اپنے بے شمار پیارے کھو دینے کے باوجود سوتی رہنے والی قوم کومیٹھی نیند سے بیدار کردیا ہے اور اب ہم اسلام آباد میں سول سوسائٹی کے مظاہرے کا منظر بھی اپنےٹیلے وژن کے پردے پر دیکھ رہے ہیں۔
Lal Masjid and Maulana Abdul Aziz: A Serious Challenge to Security of State
آج ہماری سول سوسائٹی نے درحقیقت ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔ جو لوگ اس احتجاج کے روح رواں ہیں اور جو اس احتجاج میں شریک ہیں ہم ان سب کو سلام پیش کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ تاریخ میں انہیں بہترین الفاظ میں یادکیا جائے گا۔ لال مسجد پر قابض شیطانی گروہ جو اللہ کے گھر کو اپنی کمیں گاہ بناکر یہاں سے فسادفی سبیل اللہ کا پرار کرتا رہتا ہے اس کے خلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ اور اس مقدمے کو اس کے منطقی انجام تک بھی پہنچنا چاہئے۔ تاہم تشویش انگیز بات یہ ہے کہ اس مقدمے کے عوام اورسول سوسائٹی کے شدید دباؤ کے باعث درج ہونے سے پہلے جو کچھ پیش آیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری حکومت اس گروہ شیطانی کو بچانے کی پوری کوشش کرے گی۔
سب سے پہلے تو ہمارے ذرائع ابلاغ اس میں فریق بنے۔ دو درجن افراد اور چند درجن خالی کرسیوں سے خطاب کرنے والے لیڈر کو چار چار گھنٹے تک لایئو کوریج دینے والا میڈیا اس  مظاہرے کی کوریج سے احتراز کرتا رہا۔ کسی نے  صرف پٹی چلانے پر اکتفا کیا اور کسی نے ڈیڑھ جملے کی خبر دے کر اپنی جان چھڑائی۔ پرنٹ میڈیا کا بھی حال یہی رہا۔ جو اسے فرعون اور شیطان کا خطاب دیتے رہے انہیں جوتے کھا کھا کر بھی انہی کی مرضی کی کوریج دی جاتی رہی لیکن اس  مظاہرے کو ایک کالم بھی نہ مل سکا۔جو صحافی کل تک ایک لیڈر کو برا بھلا کہتے تھے نہ جانے ان کی کیا ماہیت قلب ہوئی کہ ایک ہی رات میں شیطان کو رحمان بنا دیا، لیکن اس مظاہرے کو اس قابل نہ سمجھا کہ اس پر دو لفظ بول دیتے۔ شائد انہیں شک تھا کہ یہ بھی ایم کیو ایم کا ہی کوئی ونگ ہے جسے کوریج دینا انہیں ہمیشہ ہی ناگوار گذرتا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے بعد عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والی پولیس تھی جو اسلام آباد میں ریاست کی سالمیت کے خلاف چار ماہ تک ہونے والا ڈرامہ تو خاموشی سے دیکھتی رہی لیکن یہاں بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے ہی افراد کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ کالعدم جماعتوں کیلئے سب کچھ ٹھیک رہا لیکن جب شیطانی گروہ کے نام نہاد مولانا کے خلاف لوگ میدان میں آئے تو دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرکے اسلام آباد کی انتظامیہ نے بھی اسی شیطانی گروہ کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی کوشش کی۔
Civil Society Protest outside of Lal Masjid
بہرحال قابل صد مبارکباد ہیں وہ تمام خواتین، بچے، بچیاں، مرد ، نوجوان اوربوڑھے جو اپنے ضمیر کی آواز پر اور اپنے دکھے ہوئے دلوں کی پکار پر اپنے گھروں سےباہر آئے اور تمام تر دھمکیوں کے باوجود اپنے احتجاج کو ختم کونے سے انکار کردیا اور با الآخر شیطانی گروہ کے سرغنے پر مقدمہ درج کرانے میں کامیاب رہے۔ اب حکومت وقت کا امتحان ہے کہ اس مقدمے کو اسکے منطقی انجام تک پہنچاکراپنے اوپر لگا ہوا دہشتگردوں کے سہولت کار کا لیبل ہٹاتی ہے کہ نہیں۔ اسی اثنا میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہ دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف جن کی آواز سب سے بلند اور سب سے توانا رہی ہےکراچی میں پشاور کے سانحے کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہونے والے لاکھوں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لال مسجد کےاس نام نہاد ملا کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس مسجد پر سے ان کا قبضہ ختم کرایا جائے یا اس مسجد کو جوایک منافق گروہ کے قبضے میں آنے کے بعد مسلمانوں میں نفاق کا باعث بن رہی ہے ڈھا دیا جائےجیسا کہ نبئی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ضرار کے معاملے میں حکم فرمایا تھا۔
اگر ہمیں ایک مہذب معاشرے کا قیام عمل میں لانا ہے،  اپنے آپ کو صحیح معانی میں مسلمان کی حیثیت سے دنیا کے آگے پیش کرنا ہےاوراپنے بچوں کو دہشتگردی کے عفریت کا نوالہ بننے سے بچانا ہے تو ہمیں ایسے تمام گروہوں اور افراد کا خاتمہ کرنے کیلئے اپنی پوری طاقت سے ان کے آگے کھڑا ہونا ہوگا جیسا کہ اسلام آباد کے شہریوں نے ہمارے سامنے نمونہ پیش کیا ہے اور جیسا کہ آج کراچی کے لاکھوں شہریوں نے دہشتگردوں کے خلاف آواز بلند کرکے کیا ہے۔
FIR Against Maulana Abdul Aziz of Lal Masjid registerd by Civil Society, Islamabad

Tuesday, December 16, 2014

دہشتگردی کا عفریت میرے بچے کھا رہا ہے

دہشتگردی کا عفریت میرے بچے کھا رہا ہے
دہشتگردی کے عفریت نے اب ہمارے بچے کھانا شروع کر دیئے ہیں۔ مذہب کے تقدس  کو دہشتگردی، عدم رواداری اور عدم برداشت کی بھینٹ چڑھا کر اس کو دنیا کے سامنے ایک نفرت انگیز شئے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اب یہ لازم ہوچکا ہے کہ ہر شخص خواہ وہ کسی بھی مذہب، مسلک، عقیدے، رنگ، نسل سے تعلق رکھتا ہو روئے زمین پر انسانی خون کے پیاسے اس بدترین عفریت کےخلاف اٹھ کھڑا ہو۔ آج وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں اپنےنہیں بلکہ اپنے بچوں کے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں بڑے ہونے دینا ہےیانہیں؟
بدترین صورتحال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے وہ طبقے جو ہمیں اس عفریت سے بچا سکتے تھے وہ بھی اس کے ہی ہمنوا ہوچکے ہیں۔ دہشتگردوں کے نمایئندوں اور انکے سرغنوں کو ہمارے صحافی ذرائع ابلاغ پر انکا مؤقف پیش کرنے کیلئے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں اور ان کے اعمال خبیثہ کوان پروگراموں میں جواز فراہم کیا جاتا ہے۔  مذہب کے نام پر فساد برپا کرنے والی جماعتیں اور ان کے نام نہاد رہنما جو درحقیقت رہزن ہوتے ہیں دہشتگردی کے خلاف اپنی جانیں قربان کرنے والے شہیدوں کوہلاک قرار دیتے ہیں اور جہنم رسید ہو جانے والے دہشتگردوں کو شہید کا رتبہ دیتے ہیں۔ ہماری عدالتیں کسی دہشتگرد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کرتی ہیں۔ ہمار ےقانون ساز ادارے ایسا کوئی بھی قانون پاس نہیں کرتے کہ جس سے دہشتگردوں کی کمر توڑی جا سکے۔
اب جب کہ ہمارے معصوم بچے بھی دہشتگردوں کا ہدف بننے لگے ہیں اور یہ بھیانک عفریت ہماری ماؤں کی گودیں اجاڑنے پر آمادہ ہے تو ہمیں فیصلہ کرنا ہوگاکیونکہ اب ہمارے پاس وقت نہیں رہ گیا۔ اب یا کبھی نہیں!
دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے چند تجاویز
دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر کی جیلوں میں موجود تمام طالبان دہشتگردوں کو ایک ہفتے کے اندرپھانسی  دے دی جائے۔ اس کیلئے کسی بین الاقوامی دباؤ کی پرواہ نہ کی جائے۔
ماضی میں جو جماعتیں دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور جو رہنما جہنم رسید کو شہید اور شہید کو ہلاک کہتے رہے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے، انہیں گرفتار کرکے ان پر مقدمے چلائے جایئں اور جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی سے کم سزا نہ دی جائے
دہشتگردوں کو ان کا مؤقف پیش کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارم دینے والے صحافیوں اور چینلز پر پابندی لگائی جائے
آپریشن ضرب عضب کا دائرہ فوری طور پر شہروں تک بڑھایا جائے۔ ملک بھر کے عوام اس کا خیر مقدم کریں گے اور افواج پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے شہریوں کی تنظیمیں بنائی جایئں جو اپنے محلوں اور گلیوں میں اجنبی اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور  اپنے علاقوں کی حفاظت کیلئے حکمت عملی وضع کریں۔