سانحہ پشاور کے زخم ابھی تازہ ہیں اور جس طرح سانحہ مشرقی
پاکستان، سانحہ قصبہ علیگڑھ اور سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کے زخم برسوں گذر جانے کے
باوجود رستے رہتے ہیں یہ زخم بھی ہمیشہ رستے ہی رہیں گے۔ اپنے والدین کے دلوں کا
قرار اور ہمارے مستقبل کی آس ان پیارے پیارے معصوم بچوں نے اپنی جانیں تو دے دیں لیکن
شائد ہمیں بحیثیت قوم ایک طویل زندگی دے گئے ہیں۔ ان کی قربانی نے دہشتگردی کے
ہاتھوں اپنے بے شمار پیارے کھو دینے کے باوجود سوتی رہنے والی قوم کومیٹھی نیند سے
بیدار کردیا ہے اور اب ہم اسلام آباد میں سول سوسائٹی کے مظاہرے کا منظر بھی اپنےٹیلے
وژن کے پردے پر دیکھ رہے ہیں۔
![]() |
| Lal Masjid and Maulana Abdul Aziz: A Serious Challenge to Security of State |
آج ہماری سول سوسائٹی نے درحقیقت ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔
جو لوگ اس احتجاج کے روح رواں ہیں اور جو اس احتجاج میں شریک ہیں ہم ان سب کو سلام
پیش کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ تاریخ میں انہیں بہترین الفاظ میں یادکیا جائے
گا۔ لال مسجد پر قابض شیطانی گروہ جو اللہ کے گھر کو اپنی کمیں گاہ بناکر یہاں سے
فسادفی سبیل اللہ کا پرار کرتا رہتا ہے اس کے خلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ اور اس
مقدمے کو اس کے منطقی انجام تک بھی پہنچنا چاہئے۔ تاہم تشویش انگیز بات یہ ہے کہ
اس مقدمے کے عوام اورسول سوسائٹی کے شدید دباؤ کے باعث درج ہونے سے پہلے جو کچھ
پیش آیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری حکومت اس گروہ شیطانی کو بچانے کی پوری کوشش کرے
گی۔
سب سے پہلے تو ہمارے ذرائع ابلاغ اس میں فریق بنے۔ دو درجن
افراد اور چند درجن خالی کرسیوں سے خطاب کرنے والے لیڈر کو چار چار گھنٹے تک لایئو
کوریج دینے والا میڈیا اس مظاہرے کی کوریج
سے احتراز کرتا رہا۔ کسی نے صرف پٹی چلانے
پر اکتفا کیا اور کسی نے ڈیڑھ جملے کی خبر دے کر اپنی جان چھڑائی۔ پرنٹ میڈیا کا
بھی حال یہی رہا۔ جو اسے فرعون اور شیطان کا خطاب دیتے رہے انہیں جوتے کھا کھا کر
بھی انہی کی مرضی کی کوریج دی جاتی رہی لیکن اس مظاہرے کو ایک کالم بھی نہ مل سکا۔جو صحافی کل
تک ایک لیڈر کو برا بھلا کہتے تھے نہ جانے ان کی کیا ماہیت قلب ہوئی کہ ایک ہی رات
میں شیطان کو رحمان بنا دیا، لیکن اس مظاہرے کو اس قابل نہ سمجھا کہ اس پر دو لفظ
بول دیتے۔ شائد انہیں شک تھا کہ یہ بھی ایم کیو ایم کا ہی کوئی ونگ ہے جسے کوریج
دینا انہیں ہمیشہ ہی ناگوار گذرتا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے بعد عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والی پولیس تھی
جو اسلام آباد میں ریاست کی سالمیت کے خلاف چار ماہ تک ہونے والا ڈرامہ تو خاموشی
سے دیکھتی رہی لیکن یہاں بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے ہی
افراد کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ کالعدم جماعتوں کیلئے سب کچھ ٹھیک رہا لیکن جب شیطانی
گروہ کے نام نہاد مولانا کے خلاف لوگ میدان میں آئے تو دفعہ ایک سو چوالیس نافذ
کرکے اسلام آباد کی انتظامیہ نے بھی اسی شیطانی گروہ کو اپنی وفاداری کا یقین
دلانے کی کوشش کی۔
![]() |
| Civil Society Protest outside of Lal Masjid |
بہرحال قابل صد مبارکباد ہیں وہ تمام خواتین، بچے، بچیاں،
مرد ، نوجوان اوربوڑھے جو اپنے ضمیر کی آواز پر اور اپنے دکھے ہوئے دلوں کی پکار
پر اپنے گھروں سےباہر آئے اور تمام تر دھمکیوں کے باوجود اپنے احتجاج کو ختم کونے
سے انکار کردیا اور با الآخر شیطانی گروہ کے سرغنے پر مقدمہ درج کرانے میں کامیاب
رہے۔ اب حکومت وقت کا امتحان ہے کہ اس مقدمے کو اسکے منطقی انجام تک پہنچاکراپنے
اوپر لگا ہوا دہشتگردوں کے سہولت کار کا لیبل ہٹاتی ہے کہ نہیں۔ اسی اثنا میں
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہ دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف جن
کی آواز سب سے بلند اور سب سے توانا رہی ہےکراچی میں پشاور کے سانحے کے شہیدوں کو
خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہونے والے لاکھوں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے
ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لال مسجد کےاس نام نہاد ملا کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے
یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس مسجد پر سے ان کا قبضہ ختم کرایا جائے یا اس مسجد کو
جوایک منافق گروہ کے قبضے میں آنے کے بعد مسلمانوں میں نفاق کا باعث بن رہی ہے ڈھا
دیا جائےجیسا کہ نبئی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ضرار کے معاملے میں حکم
فرمایا تھا۔
اگر ہمیں ایک مہذب معاشرے کا قیام عمل میں لانا ہے، اپنے آپ کو صحیح معانی میں مسلمان کی حیثیت سے
دنیا کے آگے پیش کرنا ہےاوراپنے بچوں کو دہشتگردی کے عفریت کا نوالہ بننے سے بچانا
ہے تو ہمیں ایسے تمام گروہوں اور افراد کا خاتمہ کرنے کیلئے اپنی پوری طاقت سے ان
کے آگے کھڑا ہونا ہوگا جیسا کہ اسلام آباد کے شہریوں نے ہمارے سامنے نمونہ پیش کیا
ہے اور جیسا کہ آج کراچی کے لاکھوں شہریوں نے دہشتگردوں کے خلاف آواز بلند کرکے
کیا ہے۔
![]() |
| FIR Against Maulana Abdul Aziz of Lal Masjid registerd by Civil Society, Islamabad |




